میں انگور کا درخت ہوں تم ڈالیاں ہو جو مجھ میں قائم رہتا ہے اور میں اُس میں وہی بہت (کثرت کا) پھل لاتا ہے۔ یُوحنّا 15 : 5
کیا آپ نے کسی معاملہ میں غیر معمولی ردِ عمل (مثال کے طور پر غُصّہ یا بے صبری کا) کا اظہار کیا ہے، اور بعد میں سوچا ہو کہ یہ شخص کون ہے؟ میں تو سمجھ رہا/رہی تھی کہ میں اچھّے طریقہ اور نرمی سے پیش آرہا/رہی تھا/تھی! بعض اوقات ہم سوچتے ہیں کہ چونکہ ہم مسیحی ہیں اِس لئے ہمارے اندر پاک رُوح کا پھل پورے طور پر پک چکا ہے (دیکھیں گلتیوں 5 : 22- 23)۔ لیکن جب ہم غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں یا ہمارا پھل "سوکھ” جاتا ہے، تو اس وقت ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارا پھل ابھی کچا ہی تھا۔ اس قسم کے واقعات ہمارے لئے امتحان کی طرح ہوتے ہیں جو دراصل ہمارے لئے بہت اچھّے ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم اُن باتوں کو جان سکیں جہاں ہم کمزور ہیں اور ہمیں بڑھنے کی ضرورت ہے۔
جتنا آپ اپنے خیالات، گفتگو اور عمل میں ضبطِ نفس کے پھل کو پیش کرنے کی مشق کریں گے اتنا ہی آپ کا پھل پکے گا۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں کہ آپ خُدا کے فضل (خُدا کا کرم اور اُس کی برکت جس کے ہم لائق نہیں) پر بھروسہ کریں تاکہ وہ ہمارے اندر اپنا کام کرے اور ہم وہ پھل پیدا کرسکیں جس کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اُس کے بغیر "کوشش” کرتے ہیں تو ہم ناکام ہو جائیں گے، لیکن جب ہم اس کے ساتھ شراکت میں کام کرتے ہیں تو ہم اُس کی مرضی کو پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ انگور کے درخت سے پیوستہ رہیں (دیکھیں یوحنا 15 باب)، اور صیح وقت پر آپ کا پھل پک جائے گا۔
آج کا قوّی خیال: میرے اندر یعنی میرے خیالات، گفتگو اور عمل میں ضبطِ نفس کا پھل ہے۔