PT-196 قلم اور تختی

شفقت (ساری نفرت اور خود غرضی کو باہر نکالنا) اور سچائی (ریاکاری اور تمام جھوٹ کو باہر نکالنا) تجھ سے جُدا نہ ہوں ۔تو اُن کو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دِل کی تختی پر لکھ لینا۔                   اِمثال 3 : 3

زبور 45 : 1 میں زبور نویس کہتا ہے کہ اُس کی زبان "ماہر کاتب کا قلم” ہے۔ اور اِمثال 3 : 1- 3 میں یہ کلام ہے کہ تم میری تعلیم کو فراموش نہ کرنا لیکن اُن کو "اپنے دِل کی تختی پر لکھ لینا ” ہم ان حوالہ جات میں دیکھتے ہیں کہ دِل ایک تختی کی مانند ہے اور زبان قلم ہے۔

جب آپ خُدا کے کلام کا اقرار اپنی زبان سے بُلند آواز سے کرتے ہیں،تو آپ موثر انداز میں اسے اپنے دِل پر لکھتے ہیں۔ جب آپ اُسے اپنے دِل پر تحریر کرتے ہں تو یہ بڑی مضبوطی سے آپ کے دِل پر اور زمین پر نقش ہوجاتا ہے۔ خُدا کا کلام "آسمان پر قائم ہے” اَبد تک (دیکھیں زبور 119 : 89)، اور جب بھی ہم اُس کا اِقرار کرتے ہیں ہم اُسے زمین پر قائم کرتے ہیں۔ جب آپ کا منہ خُدا کے کلام سے بھرا ہوتا ہے، تو یہ اِبلیس کے خلاف ایک ہتھیار بن جاتا ہے …اس کو استعمال کریں!

 

آج کا قوّی خیال: میری زبان میرا قلم ہے، اور میرا دِل تختی ہے۔ جب میں خُدا کے کلام کا اِقرار کرتا/کرتی ہوں تو اِس طرح اُس کے احکام میرے دِل پر قائم ہوتے ہیں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon