PT-202 ہلکی دھیمی آواز کو سُنیں

کیونکہ اِنسانوں میں کون کسی اِنسان کی باتیں جانتا (جانتا اور سمجھتا) ہے سِوا اِنسان کی اپنی رُوح کے جو اُس میں ہے؟ اِسی طرح خُدا کے سِوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا (جانتا اور سمجھتا)                     1۔ کرنتھیوں 2 : 11

پاک رُوح ہمارے اندر بستا ہے اور وہ خُدا کی مرضی سے واقف ہے۔ پاک رُوح ہمارا اُستاد ہے، اور اس کے کاموں میں سے ایک خُدا کی حکمت اور مکاشفہ کو ظاہر کرنا ہے۔

اگرچہ پاک رُوح ہمارے ذہنوں کو روشن کرنا چاہتا ہے لیکن ہم اکثران باتوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں جو پاک رُوح ہم پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے اپنے دُنیاوی خیالات کا شور بہت بُلند ہوتا ہے۔ ہمارے ذہن کو دلائل، فکر،پریشانی، خوف اور دوسری اس قسم کی باتوں سے خالی ہونا چاہیے۔ اسے مطمئن، خاموش اور پُرسکون، رہنا چاہیے۔

پاک رُوح نرمی سے پیش آتا ہے، زیادہ تر وہ ہم سے "ہلکی دھیمی آواز” میں بات کرتا ہے (1 سلاطین 19 : 12)۔ پس یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایسی حالت میں قائم رہیں جہاں ہم خُدا کے الہیٰ مکاشفہ کو سُننے کے قابل ہوں۔

 

آج کا قوّی خیال: میں پاک رُوح کی ہلکی، دھیمی آواز کو سُن سکتا/سکتی ہوں اور میں اُس کی حکمت کی باتوں کی پیروی کرتا/کرتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon