جو مُحبّت نہیں رکھتا وہ خُدا کو نہیں جانتا کیونکہ خُدا مُحبّت ہے۔ 1 یُوحنّا 4 : 8
خُدا مُحبّت ہے اور اُس کی فطرت ہے کہ وہ دیتا ہے۔ وہ دیتا ہے، وہ مدد کرتا ہے، وہ فکر کرتا ہے اور وہ قربانی پیش کرتا ہے۔ یہ سب کام وہ کبھی کبھی نہیں کرتا، وہ مسلسل ایسا کرتا ہے اور اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ مُحبّت کرنا خُدا کا کام نہیں ہے ــــ بلکہ یہ تو اس کی ہستی ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں مُحبّت، فراخدلی، فضل اور مدد فراہم کرتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو خُدا اپنے بچّوں کو سزا بھی دیتا ہے، لیکن یہ کام بھی وہ مُحبّت سے کرتا ہے اور ہماری بھلائی کے لئے ایسا کرتا ہے تاکہ ہمیں زندگی گزارنے کا درست طریقہ سیکھائے۔
جو کچھ خُدا کرتا ہے وہ ہماری بھلائی کے لئے ہے، اس کے سارے احکام کا مقصد ہماری مدد کرنا ہے تاکہ جہاں تک ممکن ہو ہم بہترین زندگی گزاریں۔ چونکہ پاک رُوح کے وسیلہ سے خُدا کی مُحبّت ہمارے دِلوں میں اُنڈیلی گئی ہے (دیکھیں رومیوں 5 :5)،اس لئے ہم نہ صرف دوسروں سے مُحبّت کرسکتے ہیں بلکہ اُن پر مہربان بھی ہوسکتے ہیں، جس کا مطلب ہے خود پر سے دھیان ہٹانا، اور باطن کی آواز کو خاموش کرنا اور پوچھنا کہ میرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ اوردوسروں کے ساتھ مہربانی، سخاوت اور مُحبّت میں خُداوند یسوع کے نمونہ کی پیروی کرنا۔
آج کا قوّی خیال: میں مُحبّت کرتا/کرتی ہوں کیونکہ میں خُدا کو جانتا/جانتی ہوں اور خُدا مُحبّت ہے۔