PT-264 زبان کو لگام دینا

میں نے کہا میں اپنی راہ کی نگرانی کروں گا تاکہ میری زُبان سے خطا نہ ہو۔ جب تک شریر میرے سامنے ہے۔ میں اپنے منہ کو لگام دیئے رہوں گا۔                       زبور 39 : 1

زبور نویس داؤد اپنی زبان کے لئے بہت دُعا کرتا ہے۔ اُس نے کہا "میرے مُنہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔اَے خُداوند!(زورآور اور ناقابلِ شکست) اَے میری چٹان اور میرے فدیہ دینے والے۔” (زبور 19 : 14)۔ "اَے خُداوند ! میرے منہ پر پہرا بٹھا اور میرے لبوں کی نگہبانی کر۔ میرے لبوں کے دروازے کی نگہبانی کر” (زبور 141 : 3)۔ ان حوالہ جات سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ داؤد نے اپنی زبان سے گناہ نہ کرنے کا پکا اِرادہ کیا ہوا تھا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے اُسے جس زور کی ضرورت ہے اُس کے لئے وہ خُدا پر تکیہ کرتا تھا۔

ایک دُعا جو ہمیں ہر روز خُدا سے کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ ہماری مدد کرے تاکہ ہم صیح بات کریں۔ ہمارے الفاظ بہت اہم ہیں اور اُنہیں خُدا کے مقاصد کے لئے استعمال ہونا چاہیے۔ ہمیں خُدا کے ترجمان ہونا چاہیے،اور وفاداری سے اُس کے کلام کو بولنا چاہیے۔

 

آج کا قوّی خیال: خُدا کی مدد سے میں اپنی زبان کو لگام دے سکتا/سکتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon