لیکن خُداوند کا انتظار کرنے والے از سرِ نو زور حاصل کریں گے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اڑیں گے۔ وہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اور ماندہ نہ ہوں گے۔ یسعیاہ 40 : 31
جب آپ کسی اُڑتے ہوئے عقاب کے بارے میں سوچتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں جو تصور پیدا ہوتا ہے وہ ایک تنہا پرندے کا ہے جو بڑے شاہانہ انداز سے چمکتے نیلے آسمان پر اُڑ رہا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ عقاب اکیلا ہی اُڑتا ہے۔ عقاب کا کردار، طاقت، اور اس کی فطرت اسے یہ دلیری دیتی ہے کہ وہ تنہا اُڑسکتا ہے۔
اگر آپ "عقاب کی مانند مسیحی” بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو آپ کو دوسروں سے جُدا کردیں، اور اِس طرح آپ بُلندیوں کو چھوسکتے ہیں یعنی آپ کے اِرد گرد لوگ جس بلندی تک جانا چاہتے ہیں اُس سے زیادہ اُوپر۔ عقاب ہونے کا مطلب ہے کہ آپ انسانوں کو خوش کرنے سے زیادہ خُدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور آپ اسی کے مطابق اپنے فیصلے بھی کریں گے۔
جب آپ خُدا کے ساتھ وقت گزاریں گے اور اُس سے زور حاصل کریں گے تو اِس سے آپ کو بہت سے کام کرنے کے لئے زور ملے گا، جیسا کہ غصہ پر قابو پانا یا ایسی باتیں کرنے سے اجتناب کرنا جو بعد میں آپ کے لئے پچھتاوے کا باعث ہوں۔ آج ایک تہیہ کریں کہ آپ معمولی نہیں بنیں گے اور عقابوں کے ساتھ اُڑیں گے۔
آج کا قوّی خیال: جب میں ماندہ ہو جاتا/جاتی ہوں تو میں خُدا کے پاس بھاگ جاتا ہوں اور وہ مجھے زور بخشتا ہے۔