جیسا تُمہارا باپ (یہ سب کچھ ہے) رحِیم ( ہمدرد،شفیق،حساس اور مہربان) ہے تُم بھی رحم دِل ہو۔ لوُقا 6 : 36
جب ہمیں کسی سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ایک وجہ جس کی بنا پر اُن کو معاف کرنا مشکل لگتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم خود کو بتا چکے ہوتے ہیں کہ ہزار بار کِسی کو معاف کرنا بہت مشکل ہے۔ اور ہم نے خُدا کے اِس نہایت اہم حکم کو نہ ماننے کے لئے خود کو قائل کرلیا ہوتا ہے اور اپنے ذہن کو تیار کر لیا ہوتا ہے اور وہ حکم یہ ہے کہ معاف کریں اور اپنے دشمنوں اور اُن کے لئے جو ہمیں ستاتے ہیں دُعا کریں (دیکھیں لُوقا 6 : 35 ۔ 36)۔
جب کہ اپنے دشمنوں کے لئے اور جو ہم پر لعنت کرتے ہیں دُعا کرنا انتہائی مشکل لگتا ہو یا تقریباً ناممکن ہو، تو بھی اگر ہمارا اِیمان ہو کہ ہم کرسکتے ہیں تو ہم ایسا کرسکیں گے۔ اگر ہم خُدا کی فرمانبرداری کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے درست سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جو کچھ وہ ہمیں کرنے کے لئے کہتا ہے وہ ہمارے فائدے کے لئے ہے، اور وہ ہمیں ہمیشہ یہ توفیق دے گا کہ ہم اُس کے کہنے کے مطابق عمل کریں۔
آج کا قوّی خیال: میں سب لوگوں پر مہربانی اور معافی کا اظہار کرسکتا/سکتی ہوں۔