دانا کا دِل اُس کے مُنہ کی تربیت کرتا ہے اور اُس کے لبوں کو عِلم بخشتا ہے دِل پسند باتیں شہد کا چھتا ہیں ــــ وہ جی کو میٹھی لگتی ہیں اور ہڈیوں کے لئے شِفا ہیں۔ امثال 16 : 23 – 24
یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے خیالات اور الفاظ کا گہرا تعلق ہے ـــــ ہمارے الفاظ ہمارے خیالات سے جنم لیتے ہیں۔ یہ جوڑ اور گودے کی مانند ہیں، اس قدر نزدیک ہیں کہ اِن کو جُدا کرنا مشکل ہے (دیکھیں عبرانیوں 4 : 12)۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سوچیں خوشگوار ہونی چاہیں تاکہ ہماری باتیں بھی خوشگوار ہوں۔
ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارے خیالات بُرے ہوں اور ہم اچھّی باتیں کریں، کیونکہ ہمارے الفاظ ہمارے دِل سے نکلتے ہیں (دیکھیں متّی 12 : 34)۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کو قابو میں نہیں کرسکتے، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ جو ہم سوچنا چاہتے ہیں ہم اس کا انتخاب کرسکتے ہیں اور ہمیں بڑے محتاط ہوکر ایسا کرنا چاہیے کیونکہ ہماری سوچیں ہمارے الفاظ میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور ہماری زندگی کو کئی زاویوں سے متاثر کرتی ہیں۔
جب کوئی خیال آپ کے ذہن میں آتا ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ یہ اچھّا پھل پیدا نہیں کرے گا یا یہ خُدا کو پسند نہیں ہے،تو اُس کو نکال دیں۔ اس کو اپنے پاس رکھنے اور اس پر غور کرنے سے اِنکار کردیں، اس کی بجائے اس کی جگہ کسی ایسی سوچ کو اپنائیں جو آپ کی زندگی میں خوشی اوراطمینان کو پیدا کرے۔
آج کا قوّی خیال: میری سوچوں اور الفاظ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ دینداری کی باتیں کرنے کے لئے میں مثبت خیالات سوچوں گا/گی۔