اچّھا آدمی اچّھے خزانہ سے اچّھی چِیزیں نِکالتا ہے اور بُرا آدمی بُرے خزانہ سے بُری چِیزیں نِکالتا ہے۔ متّی 12 : 35
آپ کو ہمیشہ اپنے خیالات کے اظہار کے لئے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کسی ایسے شخص سے جسے آپ بہت پسند کرتے تھے اپنی پہلی ملاقات یاد کریں ۔ آپ نے قبولیت اور پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ آپ بہت مسُکرا رہے تھے اور آپ اپنی دلچسپی کو ظاہر کرنے کے لئے آنکھوں اور سَر کو ہِلا ہِلا کر اس کی حوصلہ افزائی کررہے تھے۔ آپ کچھ کہے بغیر اپنے جسمانی حرکات و سکنات سے کہہ رہے تھے کہ "آپ مجھے پسند ہیں!” اب آپ سوچیں کہ جب آپ سودا لیتے ہوئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور کیشئر اپنا کام کرنے میں بہت سستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ آپ اپنا سامان کبھی اِدھر کبھی اُدھر رکھتے ہیں، بازو چڑھا لیتے ہیں، غُصہ میں آہیں بھرتے ہیں اور اپنی آنکھوں کو مٹکاتے ہیں۔ یہاں بھی آپ اشاروں میں بات کرتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ آپ کے خیالات پوشیدہ ہیں لیکن آپ کے خیالات آپ کے رویے سے ظاہر ہوتے ہیں، آپ کے جسمانی حرکات و سکنات کی زبان، الفاظ اور عمل سے۔ اِس لئے اچھّا رویہ ظاہر کرنے کی کوشش کریں۔
آج کا قوّی خیال: میں اچھّی سوچ اور الہیٰ خیالات کو اپنے ذہن میں رکھوں گا/گی، تاکہ میرا دِل اور رویہ اچھّا ہو۔