PT-340 اپنی سوچ کو نیا بنائیں

اور نئی اِنسانِیّت کو پہن لِیا ہے جو معرفت حاصِل کرنے کے لِئے اپنے خالِق کی صُورت پر نئی بنتی جاتی ہے۔                             کُلسیوں 3 : 10

بہت دفعہ ہمارے مسائل کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم نئی انسانیت جو مسیح میں ہمیں بخشی گئی ہے کی بجائے پُرانی انسانیت کے ساتھ اپنے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری سوچیں نئی ہوں اور اس نئی زندگی کے مطابق ہوں جو خُدا نے ہمیں بخشی ہے۔ جب ایسا ہوگا تو ہم حالات کو نئے انداز سے دیکھنا شروع کریں گے، اور ہمارا ردِ عمل خُدا کی سچائی اور کردار کی بنیاد پر ہو گا۔

مثال کے طور پر جس لمحہ اپ کو کسی چیلنج یا مشکل کا سامنا ہوگا ،آپ کی نئی سوچ کا ردعمل یہ ہوگا کہ ” مجھے کسی بھی بات کی فکر نہیں ہے۔ میں خُدا پر بھروسہ کرتا/کرتی ہوں۔” اگر آپ کسی بات کی وجہ میں پریشان ہوں گے: "میں مطمئین اور جذباتی طور پر مستحکم ہوں۔” جیسے ہی کوئی آپ کو غُصہ دلائے گا: "میں حالات کے مطابق ڈھل جاتا/جاتی ہوں۔ مجھے ناراض کرنا مشکل ہے”

خُدا کا کلام ایک خزانہ ہے۔ جب ہم اِسے سنتے ہیں، سیکھتے ہیں، قبول کرتے ہیں، اس کا یقین کرتے ہیں اور اس کا اِقرار کرتے ہیں، تو یہ ایسی سرمایہ کاری کی مانند ہے جس سے ہمیں تاحیات بڑا روحانی فائدہ ملتا ہے۔

 

آج کا قوّی خیال: خُدا نے مجھے نئی فطرت عطا کی ہے اور میری سوچ اس کی سوچ کے مطابق  ڈھل رہی ہے تاکہ ہر قسم کے حالات میں اس کے نمونہ کی پیروی کروں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon