تب اُس نے اُن کی آنکھں چھو کر کہا تمہارے اعتقاد ( اُس قوّت کے مطابق جو تمہیں دی گئی ہے) کے موافق تمہارے لئے ہو۔ متّی 9 : 29
ہمارے خیالات اور الفاظ ہماری عادات کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ ساری بُری عادات کو ختم کرنے اور اچھّی عادات اپنانے کا آغاز ہیں۔ دراصل منفی انداز سے سوچنا اور بات کرنا اپنے آپ میں ایک بُری عادت ہے ۔۔۔۔ اور ہمیں اُسے مثبت گفتگو کرکے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
آپ اپنے خیالات اور گفتگو کے وسیلہ سے فتح یا شکست حاصل کرسکتے۔ آپ نہ صرف وہ سب چیزیں حاصل کرسکتے ہیں جن کے بارے میں آپ سوچتے اور بات کرتے ہیں بلکہ وہ سب کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں جس کا خُدا نے اپنے کلام میں ہمیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ خُداوند یسوع نے لوگوں کو بتایا کہ وہ اپنے اِیمان کے مطابق حاصل کرسکتے ہیں جیسے کہ اندھوں کی بینائی (دیکھیں متُی 9 :27 ۔ 30)۔ اُنہیں صرف اِیمان لانے کی ضرورت تھی ۔۔۔۔ یعنی اپنی سوچ کو نیا بنانے کی ضرورت تھی تاکہ جیسا خُدا سوچتا ہے ویسا ہی سوچیں (دیکھیں رومیوں 12 : 2 اور کلسیوں 3 : 10) ۔۔۔۔ اور وہ برکت جو خُدا اُنہیں دینا چاہتا ہے حاصل کر سکتے ہیں… اور آپ بھی!
آج کا قوّی خیال: میں خُدا کی قدرت پر بھروسہ کرتا/کرتی ہوں جو مجھے میری بُری عادتوں پر فتح بخشتی ہے۔