بےدل ہوئے بنا محبت کرتے رہنا

بےدل ہوئے بنا محبت کرتے رہنا

جو مظلوموں کا انصاف کرتا ہے ،جوبھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے…وہ یتیم اور بیوہ کو سنبھالتا ہے۔ زبور ۱۴۶: ۷۔۹

خدا نے کلامِ مقّدس میں بارہا مظلوموں، بھوکوں، بیواوٗں،یتیموں،اورپردیسیوں کی طرف ہماری ذمہ داری کے تعلق سے فرمایا ہے۔ وہ ان کا ذکر کرتا ہے جو تنہا،رد کئے ہوئے ، بھولے بسرے اوربے قدر ہیں۔ وہ مظلوموں اور بھوکوں کی گہرائی سے فکر کرتا ہے۔

لوگ کئی اعتبار سے بھوکے ہو سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس کھانے کو بہت کچھ ہو لیکن وہ قدرومنزلت اور محبّت کے لئے ترس رہے ہوں۔ خدا اُن کو اُٹھاتا ہے جو دُکھ کے سبب سے جُھکے ہوئے ہیں؛وہ پردیسیوں کی حفاظت کرتا ہے اوربیوہ اور یتیموں کو سنبھالتا ہے۔ وہ کس طریقے سے یہ کام کرتا ہے؟وہ انسانوں کے ذریعے سے یہ کام کرتا ہے۔ اُس کو دیندار،فرمانبرداراور مخصوص شدہ لوگوں کی ضرورت ہے جو دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کے میں لگے رہیں۔

مدرٹریضہ نے ایک بار کہا کہ’’یہ نہ سوچیں کہ سچی محّبت کوئی بہت خاص محّبت ہے۔ یہ تو بس بے دِل ہوئے بغیرمحّبت کرتے جانے کا نام ہے۔‘‘

میں نے یہ سمجھا ہے کہ بہت سے لوگ جن سے ہم ہر روز ملتے ہیں بس زندہ رہنے کی کوشش میں لگیں ہوئے ہیں اور امیدوار ہیں کہ کوئی ان کو بچا لے،اس میں آپ اور میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔آئیں اپنے وسیلہ سے خدا کی محبت کو دکھی اور ٹوٹے ہوئے لوگوں تک پہنچنے دیں اور ان لوگوں کی ضرورت کو پورا کریں جو روحانی، جذباتی اور جسمانی طور پر دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔ آئیں ماندہ اور بے دِل ہوئے بِنا محّبت کرتے جائیں۔

یہ دُعا کریں:

اَے پاک روح مجھے قوت دے تاکہ بے دل ہوئے بنا محبت کرتا/کرتی جاوٗں، مجھے دُکھی اور ضرورت مندوں کے لئے اپنے جیسا دِل عنایت کر اورمجھ پر ظاہر کر کہ کس طرح اِن کی ضرورتوں کو پورا کروں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon