PT-310 اپنے سارے دِل سے

اُس نے اُس سے کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل (سمجھ) سے مُحبّت رکھ۔ اور پہلا (سب سے اہم اصول) حُکم یِہی ہے۔اور دُوسرا اِس کی مانِند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر مُحبّت رکھ۔ کرو۔                    متّی 22 : 37 ۔ 38

جب فریسیوں نے خُداوند یسوع مسیح سے پوچھا کہ حُکموں میں سے سب سے بڑا حُکم کون سا ہے، تو اُس نے جواب میں اُن سے کہا: خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل سے مُحبّت رکھ ۔

آپ محض ضرورت کے وقت خُدا سے مُحبّت نہیں جتا سکتے، آپ اپنی سہولت یا شہرت کے مطابق بھی اُس سے مُحبّت نہیں رکھ سکتے۔ آپ کو محض اس وقت اس پر توجہ نہیں کرنی جب آپ گرجا گھر میں ہوں یا کیونکہ آپ سوچتے ہیں کہ اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو وہ آپ کو سزا دے گا۔ نہیں! آپ کو اُس سے مُحبّت کرنی ہے کیونکہ وہ بہت شاندار اور جلالی ہے ـــــ خوف یا فرض سمجھ کر نہیں۔ اور آپ کو اس سے شدت سے مُحبّت کرنی ہے۔ "سارے دل سے” کا یہی مطلب ہے۔

خُدا بھلاہے، اور وہی اِس لائق ہے کہ اُس سے مُحبّت کی جائے! تہیہ کرلیں اور خُدا سے اپنے سارے دِل سے اِسی لمحہ سے مُحبّت کرنے کی کوشش کریں۔

 

آج کا قوّی خیال: میں جو کچھ ہوں اُس خُدا سے مُحبّت کرتا/کرتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon